Poetry

GHAZLIYAAT

غزلیات

حریمِ غم سے باہر آ گیا ہوں

دل رہے پُر فقط عداوت سے

مری نیکی کا مقصد میرا سر ہے

کاہے اتنی مشکل چیزیں لکھتے ہو

کاش میں بَتا سکوں

غیرتِ آرزو نہیں جاتی، حسرتِ جستجو نہیں جاتی

منہ سے گرچہ نہیں بتا سکتا

گفتگو میں ذکرِ ماضی آ گیا

حوالے دل کے اتنے عام ہو جاتے تو کیا غم تھا

کِن سرابوں سے، خرابوں سے گزرتی آئی

کچھ برسوں، کچھ لوگوں کا غم دل پر چھایا ہے

کبھی نکل غمِ دل سے ملالِ ذات کو دیکھ

خود اپنے ہاتھ سے تحریر ہونا چاہتا تھا

غموں کا یہ نتیجہ ہو گیا ہے

خود کو سمجھ رہے ہو تو گفتار کم کرو

گریزاں ہو مگر پھر بھی بلانا چاہتے ہو تم

گروہِ کینہ وراں اُٹھ گیا ہے جا کے دیکھ

کہو اِس بے اماں نگری میں چارہ کر لیا تم نے

مرے بچپن میں ہی تنہائی کیسے عود آئی تھی

بہت دلگیر مشکل تھی

ابھی اندر ہی اندر چل رہی تھی

مجھے سجدے کے لئے ایک چٹائی دے دے

مجھ پہ بھی التباس کرتی ہے

گِھر گیا اپنی چشمِ نم میں مَیں

کہانی کیوں سنانا چاہتے ہو

ہر مشکل میں ہنس دینا بھی خیر ضروری چیز نہیں

چار بندے ساتھ ہو جانے سے سچے ہو گئے

کچھ اس طرح ہےکہ اب سےپہلے مری بھی خوشیوں سےدوستی تھی

اب کٹاؤ نہ وہ بہاؤ ہے

شدتِ غم کو فسانہ نہ بناؤ، چھوڑو

نسلِ انسانی کے دُکھ سمجھے بِنا ہی ہم نے خود کوکیسے کامل کہہ دیاتھا

مَیں سمجھتا تھا پرانے گُل گئے

معاشیاتی نظامِ حاضر کے کھوٹے سکے چَلا رہا تھا

حاسد، کنواں، تہمت، زنداں یہ سارے تو رستے ہیں

میرے فاتح کو تشنگی کیوں ہے

وہ میرے ساتھ دنیا جی رہا تھا

غمِ ہستی گوارا ہو رہا ہے

مری تکلیف سے اُس کو علاقہ بھی نہیں ہوتا

سانس لیتی سَحر میں دیکھا ہے

ہم خیالی نصف حل تھا، مسئلہ گھمبیر تھا

نہیں ہوں مایوس ہاں مگر کچھ ڈرا ہوا ہوں

نم غم کی غمّازی کرتا رہتا ہے

قلب کچھ تو عذاب سے سیکھا

نفس پرستی لے جاتی ہے دُور خدا سے بندے کو

ہم تو سمجھے ہو گئے روشن ہمارے بخت، دوست

گمان و ظن سے ذرا اب جدا کیا جائے

اپنے ماتھے پہ بھی کچھ وقت کے دھارے نکلے

کبھی مغلوب ہو جاتا ہے دل جب غم کی شدت سے

یقینا میرے ہاتھوں میں خدا کے گھر کی کنجی ہے

وجودِ خاکی میں قید ہوں مَیں، ابھی مَیں کچھ کر نہیں سکا ہوں

ہم نے یہ ٹھیک کیا نفس کو گر بیچا نہیں

عرض کرتے ہیں تو فرماتے ہیں

میں اُسے بدل رہا تھا، وہ مجھے بدل رہی تھی

کسی نے ذات کے منظر میں خود کو دیکھ لیا

کھو بھی سکتا ہوں اِشاروں میں بتایا ہے بہت

سفر نصیب میں ہوتا تو ہم بہک جاتے

آپ مُجھ کو چھوڑ کے میرے حوالے کیجئے

رموزِ نفس کا آساں تریں بلاغ ہوں میں

ایک چہرہ ہے مگر یاد میں دھندلا رہا ہے

مرا دل غم کا جادہ کس لیے ہے

جب کبھی ہم نے اُس کو پاس کیا

ایک میں قلب کی سختی سے بہت ڈرتا ہوں

مری ہستی سے محبت وہ جتا بیٹھا تھا

جوش سے سینہ ہلے تو قُل ھُوَ اللہ،ُ اَحَد

اپنا اندر ہی مار چلتے ہیں

افسردگی تو عمر کا اک سنگِ میل تھی

غنیمت ہے عبادت میں گزر جائے کوئی پل تو

نور کو قلب کی دیوار میں محصور نہ کر

آپﷺ کے نام سے دمکتا قلب

شوق چڑھتا ہے تو افلاک میں گم رہتا ہوں

صورتِ حال بدل سکتی ہے حالات نہیں

کوئی استاد نہیں رکھتا، نظر رکھتا ہوں

معنی تو انساں دیتے ہیں

سکونِ قلب ہے ربِ جلیل کے آگے

قیام کرنا تھا سجدے میں جا پڑے کچھ لوگ

رک جا، آگے مت جا، آنچل جل جائے گا

درد ہوتا ہے تو ہو لینے دو

گناہ کرتے رہے ہمیشہ کہ جیسے پردے رہیں گے رب سے

قلب کٹورا بھر جائے گا

ہم کبھی انفس و آفاق کو سمجھے ہی نہیں

ذرہ ذرہ نکھر رہا ہوں، چمکی پوری ذات نہیں

گھل گیا جسم انتظار کے ساتھ

کبھی سادہ کبھی مشکل

دل کے سفر میں ایک قلق بارہا ہوا

درد الفاظ میں ڈھلتے تھے کبھی رات ڈھلے

جبر سے کوئی بھی آباد نہیں ہوتا ہے

تم کیا سمجھے قوت سے بس آس بڑھی

درد میں بھی ہنستا رہتا تھا بہتر تھا

نفس سے گھرتے گھرتے گھر جاتے ہیں لوگ

نظریاتی سفر میں جسم و جانِ آدمی کے غم

نفرتیں، درد، خوف، پیار میاں

کربِ شعور تھا جسے ڈھالا ہے شوق میں

سوال کچھ اور پوچھنا تھا جواب کچھ اور لے لیا ہے

جو ڈوبتی آنکھوں کی تمازت نہیں سمجھا

کچھ جنوں، کچھ خرد کے نام ہوئی

حرمتِ زندگی ضروری ہے

ایک یک طرفہ محبت تھی چلو ختم ہوئی

درد کی تحریک ہو یا غم کی ترتیبِ نزول

جو ڈوبتی آنکھوں کی تمازت نہیں سمجھا

ایک خواہش گلاب کی سی ہے

تھک گیا ہوں تھوڑا سستانے کا حق تو دو مجھے

احتسابِ ذات ہونا چاہئے

خواب خوش رنگ تھے تعبیر سیاہی مائل

شور کی آلودگی بڑھنے لگی

ہم گزرے ہوئے وقت کے افسردہ خد و خال

اگرچہ آنکھ میں اب کے ہلالِ ذات نہ تھا

حزن و ملال ختم ہوئے زندگی کے ساتھ

سو حقائق کے روبرو ہو کر، ایک واضح خیال پایا ہے

سرمئی ریت، سمندر کا کنارہ اور ہم

بڑھ رہا ہے میرے ماضی کا یہ غم

رنج ہوتا ہے مگر لوگ بتاتے نہیں ہیں

بے بنیاد الزام لگا کر کیا پایا

تھک گیا ہوں سکون چاہتاہوں

ہم گرفتارِ آرزو نہ ہوئے

وقت بدلا ہے مگر لوگ کہاں بدلے ہیں

مادہِ جسم کہوں، نورِ مجسم بولوں

وقت کم ہے زندگی میں اور مقصد دور ہے

قیام اللیل سے حاصل ہوا ہے

اس کے غصے کا بھوت مر جاتا

عقل کا وحی سے رشتہ ماننا ضروری ہے

حالتِ ذات میں، حالات میں غم دیکھا ہے